Close Menu
    Facebook X (Twitter) YouTube LinkedIn
    Trending
    • Arcana Info and Allied Bank Limited Collaborate to Advance AI-Powered Intelligent Automation
    • Ahson Rana, COO of EcomBack, Strengthens Global Accessibility Compliance Through Certified Expertise and Industry Leadership
    • Transforming Healthcare Through Innovation and Ethical Technology Leadership
    • 5G Technologies & Infrastructure: Unlocking Pakistan’s Next Digital Economy
    • Content Creator Payouts in Pakistan: What the System Looks Like and Where It Breaks
    • NeuConnectz from QBS Now Available on SAP® Store
    • MENA Operators Are Sitting on a Revenue Stream They Are Not Billing For
    • TPL Insurance Begins a New Chapter as Part of the JazzWorld Ecosystem
    News – CxO NewsNews – CxO News
    • Home
    • Press Release
    • Business
    • Tech
    • Video
    Facebook X (Twitter) YouTube LinkedIn
    Saturday, August 15
    News – CxO NewsNews – CxO News
    Home » پاکستان کو توانائی سیکٹر میں کسی ماہر کی ضرورت ہے
    Uncategorized

    پاکستان کو توانائی سیکٹر میں کسی ماہر کی ضرورت ہے

    cxonnewsnewsBy cxonnewsnewsApril 15, 2022No Comments5 Mins Read
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    ۔پاکستان کے توانائی کے شعبے کو جن بڑے مسائل نے گھیر رکھا ہے، وہ اس شعبے کے اندر سے غیر منظم شدہ و منقسم  ذمہ داریوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    پاکستان میں نئی حکومت اقتدار سنبھال  چکی ہے۔ وزیر اعظم کے لیے پہلا قدم اپنی کابینہ کی تشکیل ہے۔ مثالی طور پر، کابینہ چھوٹی ہونی چاہیے۔ لیکن یہ ممکن نہیں کہ ایک چھوٹی کابینہ ہو کیونکہ یہ مخلوط حکومت ہے۔ توانائی اور خزانہ دو ایسے شعبے ہیں جہاں لیڈرشپ   کو کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ اسے بہترین اور قابل ترین لوگوں کو لانا چاہیے۔

    ان حالات میں پاکستان کے توانائی کے شعبے کو جن بڑے مسائل نے گھیر رکھا ہے۔ وہ اس شعبے کے اندر سے غیر منظم شدہ و منقسم  ذمہ داریوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس لیے ایک قابل  وفاقی وزیر برائے توانائی کی ضرورت ہے، جو بیک وقت پیٹرولیم اور پاور ڈویژن کا ذمہ دار ہو۔

    پیٹرولیم اور پاور کے لیے دو الگ الگ وزراء کا پرانا فن تعمیر طویل عرصے سے اپنی شان کھو چکا ہے۔ 1970 کی دہائی تک صنعتوں، ایندھن، بجلی اور قدرتی وسائل کے لیے صرف ایک وزارت تھی۔ بعد میں، پورٹ فولیو کئی محکموں میں تقسیم ہو گیا۔ اب  وقت آ گیا ہے کہ ہم  خود کو جانچیں اور جو  پالیسیاں درست ہیں ، انہی پر عمل درآمد کریں۔ پیٹرولیم اور پاور ڈویژن کے درمیان گہرے روابط ہیں۔ ماضی کے تجربات سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ دونوں ڈویژنوں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی نے مزید  کام چوری اور تضادات کو جنم دیا ہے۔

    توانائی ، گیس ، بجلی ، پٹرول ، ماہر

    جہاں تک معیشت کا تعلق ہے،  ملک ہنگامی صوت حال  میں دکھائی دیتا ہے۔ دونوں وزارتیں – خزانہ اور توانائی – کے ساتھ بھی روابط ہیں۔ مالیاتی خسارے میں گراوٹ  کی ایک بڑی وجہ بنیادی طور پر توانائی کے شعبے کی طرف سے پیدا کردہ گردشی قرضہ (سرکلر ڈیبٹ ) ہے۔ پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2.5 ٹریلین روپے سے بڑھ گیا ہے۔

    گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ 700-800 ارب روپے کے قریب ہے۔ اور اگرچہ یہ پٹرولیم ڈویژن کے تحت آتا ہے، لیکن اسے پاور سیکٹر سے الگ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ خسارہ بنیادی طور پر ایل این جی کی خریداری میں ناکامی اور لاگت کو صارفین تک پہنچانے میں ناکامی کی وجہ سے ہے۔   نیز، ایل این جی کی طلب کا ایک بڑا حصہ پاور سیکٹر سے آتا ہے، اور پاور سیکٹر سے پیدا ہونے والی غیر وقتی مانگ کی وجہ سے بروقت فیصلے ناممکن ہیں جہاں قیمت کے ساتھ میرٹ کا آرڈر بدل جاتا ہے۔

    بات یہ ہے کہ گیس اور بجلی کے  گردشی قرضے  آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)، پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل)، آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل)، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل)، سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی)، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ ( ایس این جی پی ایل) ، انڈپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز  (آئی پی پیز ) اور ڈسکوز کے درمیان ادائیگیاں اور وصولیاں ہیں۔ یہ سب توانائی کے شعبے میں مختلف ادارے ہیں۔

    ان میں سے کچھ شعبے/کمپنیاں پٹرولیم ڈویژن کے تحت ہیں جبکہ دیگر پاور ڈویژن کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ سب الگ رہ سکیں اور ایک دوسرے سے آزاد  کام کر سکتے ہیں ؟

    عالمی سطح پر گیس اور بجلی بڑی حد تک ایک ہی منسٹری  کے تلے ہوتی ہے ۔  پاکستان میں ایندھن کی اکثریت – چاہے وہ فرنس آئل ہو، ایل این جی ہو یا کوئلہ – بجلی پیدا کرنے کے لیے درآمد کیا جاتا ہے۔ پاور سیکٹر آرڈر کے میرٹ  کا تعین کرتا ہے۔ ایندھن کی درآمد اور انتظام کا تعلق پٹرولیم ڈویژن سے ہے۔ یہ پاور سیکٹر کی طلب پیدا کرنے کا انتظار کرتا ہے اور پھر خریداری کے آرڈر دیتا ہے۔

    پاور سیکٹر میرٹ آرڈر قیمت کا ایک فنکشن ہے۔ قیمت ہر روز بدلتی ہے۔ ایسے حالات کے لیے فوری فیصلہ سازی کی ضرورت ہے۔ اور اس کے لیے ایک قیادت میں مربوط کوششیں ناگزیر ہیں۔ پھر انفراسٹرکچر کو بڑھانے اور ایندھن کے مکس کو تبدیل کرنے کے فیصلے ہوتے ہیں۔ ان تمام فیصلوں میں ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔

    توانائی ، گیس ، بجلی ، پٹرول ، ماہر

    توانائی کے شعبے کے لیے صرف ایک وزیر نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ توانائی کے شعبے کے لیے ایک وفاقی سیکریٹری بھی ہونا چاہیے۔ اور پیٹرولیم اور پاور ڈویژن کے لیے دو الگ الگ ایڈیشنل سیکریٹری ہوسکتے ہیں۔ ماضی میں دونوں ڈویژنوں میں بیوروکریٹس اور وزراء کے درمیان جھگڑے میں تاخیر اور غیر ضروری فیصلوں کی وجہ سے قومی خزانے کو کروڑوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔ آنے والے دن مشکل ہیں، جس وجہ سے پاکستان ان مسائل کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔

    عالمی توانائی کی قیمتیں زیادہ ہیں، اور مخصوص ایندھن کی کمی ہے۔ پاکستان کو پیٹرولیم اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور آسمان چھوتی ہوئی قیمتوں پر ایل این جی درآمد کرنے کے لیے سخت فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ سرکلر ڈیٹ پر قابو پانا ہوگا۔ 2015 کے آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت شروع کی جانی چاہیے۔ تاکہ آئی پی پیز کے قرض ادا کرنے والے حصے کو پہلے  دس سے بارہ سالوں سے لے کر پراجیکٹس کی  ہمیشہ کیلئے توسیع کر دی جائے۔

    یہ سخت فیصلے ہیں اور بین الاقوامی قرض دہندگان اور دو طرفہ شراکت داروں کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت ہے۔ غلطیاں کرنے کی بہت کم یا کوئی گنجائش نہیں ہے۔ سب سے پہلا صحیح کام یہ ہے کہ ’وزارت توانائی‘ میں ایک قابل وزیر ہونا چاہئے ۔

    مزید خبروں کیلئے ہماری ویب سائٹ ملاحظہ فرمائیے ۔

    For all the latest updates and news, visit CxO Global FORUM

    توانائی، ماہر ، پاور سیکٹر ، پاکستان ، بحران، سی ایکس او، سی ایکس او گلوبل فورم ، سی ایکس او گلوبل فورم پاکستان
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
    cxonnewsnews

    Related Posts

    With five national wins to date, Meezan Bank continues to lead the country’s banking excellence.

    November 16, 2025

    AIESEC in LUMS and NYAHB Farms conduct an end-of-year retreat

    May 21, 2025

    Gen Z and Financial Well-Being: Shaping a Future of Financial Freedom and Mental Health

    May 14, 2025
    picks
    Stay In Touch
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    Don't Miss
    Featured

    Arcana Info and Allied Bank Limited Collaborate to Advance AI-Powered Intelligent Automation

    August 13, 202601 Min Read

    Lahore — July 2026 Arcana Info (Pvt) Ltd and Allied Bank Limited (ABL) have entered…

    Ahson Rana, COO of EcomBack, Strengthens Global Accessibility Compliance Through Certified Expertise and Industry Leadership

    August 12, 2026

    Transforming Healthcare Through Innovation and Ethical Technology Leadership

    August 5, 2026

    5G Technologies & Infrastructure: Unlocking Pakistan’s Next Digital Economy

    August 5, 2026

    Subscribe to Updates

    Get the latest creative news from SmartMag about art & design.

    News around thought leaders & corporate industry. World is moving towards knowledge economy and the change of paradigm shift is here.

    • Contact us: hello@news.cxoforum.global
    Facebook X (Twitter) YouTube LinkedIn

    All rights reserved © By CxO Global Forum

    EVEN MORE NEWS

    Arcana Info and Allied Bank Limited Collaborate to Advance AI-Powered Intelligent Automation

    Ahson Rana, COO of EcomBack, Strengthens Global Accessibility Compliance Through Certified Expertise and Industry Leadership

    Transforming Healthcare Through Innovation and Ethical Technology Leadership

    5G Technologies & Infrastructure: Unlocking Pakistan’s Next Digital Economy

    Content Creator Payouts in Pakistan: What the System Looks Like and Where It Breaks

    NeuConnectz from QBS Now Available on SAP® Store

    POPULAR CATEGORY

    • Press Release
    • Technology
    • Business
    • Startups
    • Heathcare
    • Education
    • Mobiles

    LINKS

    • Disclaimer
    • Privacy
    • Advertisement
    • Contact Us

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.